مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان ، افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ایرانی وزير خارجہ نے اجلاس سے قبل پاکستانی وزير خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں افغانستان سے متعلق امور اور دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ، بعد میں افغان وزیرخارجہ ڈاکٹر رنگین دادفر سپانتا دفتر خارجہ پہنچے اور تینوں وزرا خارجہ میں مذاکرات ہوئے جس میں تینوں ملکوں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔سہ فریقی مذاکرات میں رواں ماہ کے آخر میں ترکی اور برطانیہ میں افغانستان سے متعلق ہونے والی علاقائی اور عالمی کانفرنسزسے متعلق امورکے علاوہ افغانستان سے متعلق امریکا کی نئی پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی افغانستان میں موجودگی دہشت گردی کا اصلی سبب ہے اور غیر علاقائی طاقتوں کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا۔ متکی نے زور دیکر کہا کہ غیر علاقائی طاقتیں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں اور علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقہ میں عدم استحکام پیدا ہونے کی اجازت نہ دیں۔
آپ کا تبصرہ